عبداللہ جاوید
—————————————————
يَا وَيْلَتَا لَيْتَنِىْ لَمْ اَتَّخِذْ فُلَاناً خَلِيْلاً. (الفرقان۔ پارہ 19)

جی ہاں! یہ پکار ہے ایک ایسے شخص کی، جو آخرت میں ناکام ہوچکا ہے۔ اپنی گزشتہ زندگی کو یاد کررہا ہے اور برباد شدہ اوقات پر خود کو کوس رہا ہے۔ ان میں سے ایک چیز کو شدت سے ذکر کرکے اپنے کف افسوس سے مَل رہا ہے، مَل نہیں رہا، کاٹ کر کھا رہا ہے، کہ کاش! دنیاوی زندگی میں فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس نے مجھے ہدایت کے آجانے کے بعد رستے سے ہٹا دیا۔

کیا میں اور آپ چاہتے ہیں کہ ہم آخرت میں یہی رونا روئیں؟ کیا ہم آخرت کی بہتر زندگی کے بدلے دنیا کی موج مستی میں گم ہونا پسند کرتے ہیں؟

اس کا جواب یقیناً نہی میں ہے۔ ایک کہاوت ہے، برا دوست شیطان سے بھی بدتر ہے، اس لیے کہ شیطان صرف آپکے دل میں برے کام کا وسوسہ ڈالتا ہے۔ جبکہ برا دوست آپ کا ہاتھ پکڑ کے وہ کام کروا لیتا ہے۔

حدیث شریف میں بھی نیک ہم نشیں بنانے کی ترغیب دی گئی ہے۔

آج کے دور میں بھی اچھا دوست ڈھونڈنے سے مل ہی جاتا ہے۔

اپنے ساتھیوں پر نظر ڈالیے۔ اگر ان میں کسی کی ہم نشینی آپ کو نیک اعمال سے روک رہی ہے تو اپنا ساتھی بدل ڈالیں۔ اس کی بہترین مثال یہ ہے کہ اگر کوئی آپ کو منشیات پر ابھارے،کسی کے ساتھ غلط تعلقات بنانے میں کوئی کردار ادا کرے، آپ کی نماز میں رکاوٹ بنے، کسی میوزک کنسرٹ میں جانے کے لیے آپ پر زور ڈالے، غرض کسی بھی برائی کی طرف کھینچے تو اس سے فوری کنارہ کریں، ورنہ انجام ناقابل برداشت ہے.